کلکتہ،14؍اپریل (ایس ا ونیوز؍یو این آئی) رائے گنج پارلیمانی حلقہ جو شمالی دیناج پورضلع میں واقع ہے بیک وقت بنگلہ دیش اور بہار دونوں کی سرحد سے متصل ہونے کی وجہ سے مشترکہ تہذیب و تمدن کا حامل علاقہ ہے ، یہاں بنگلہ بولنے والوں کے ساتھ ہندی اور اردوبولنے والوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے ،کانگریس کا گڑھ کہے جانے والے اس علاقے کی سیاست میں حالیہ برسوں میں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے ۔ایک زمانے میں جہاں آل انڈیا میڈیکل سائنس انسی ٹیوٹ(ایمس)چائے باغات کی ترقی اور کسانوں کی زمین کی حصول اراضی کے خلاف تحریک کا مرکز ہوا کرتا تھا مگر اب ان تمام ایشوز پراین آر سی، ہندی بنام اردو اور دراندازوں کو نکال باہر کرنے والے جذباتی نعرے اور ایشوز حاوی ہوگئے ہیں۔
سی پی آئی ایم کے امیدوار اور ممبرپارلیمنٹ محمد سلیم کو اس مرتبہ چہار رخی مقابلے کا سامنا ہے ۔2014میں محمد سلیم نے اپنے حریف و سابق مرکزی وزیر کانگریس لیڈر دیباداس منشی کو محض1634؍ووٹوں سے شکست دیا تھا۔1952سے ہی یہ علاقہ کانگریس کا گڑھ رہا ہے ۔مگر گزشتہ پانچ سالوں کے دوران حکمراں جماعت ترنمول کانگریس اور بی جے پی دونوں نے اس علاقے میں اپنی پکڑ مضبوط کی ہے ۔طالب علمی کے دور سے ہی سیاست سے وابستہ اور فلسفہ میں پوسٹ گریجوٹ محمد سلیم بنگالی، ہندی، اردو اور انگریزی چاروں زبان میں دسترس رکھتے ہیں،ان کا شمار پارلیمنٹ میں بہترین مقررین میں ہوتا ہے ۔لوک سبھا، راجیہ سبھا اور اسمبلی تینوں کیلئے منتخب ہونے والے محمد سلیم فٹ بالر بنا چاہتے تھے مگر طالب علمی کے زمانے ایس ایف آئی،اس کے بعد ڈی وائی ایف کے راستے وہ اس وقت سی پی ایم کے سینئر لیڈر بن چکے ہیں۔پارلیمنٹ میں کارکردگی کے اعتبار سے محمد سلیم نے ایم پی فنڈ کا 95فیصد استعمال کیا ہے ۔پارلیمنٹ میں ان کی حاضری کی شرح 85فیصد ہے ۔جبکہ انہوں نے 85مرتبہ پارلیمنٹ میں بحث میں حصہ لیااور97سوالات پوچھے ہیں۔اس اعتبار سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کارکردگی کے اعتبار سے اوسط سے کہیں زیادہ بہتر ہے ۔
محمد سلیم کہتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران وہ ہرہفتے رائے گنج لوک سبھا میں رہے ہیں۔پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران بھی ویکینڈ پر کلکتہ جانے کے بجائے رائے گنج کا دورہ کیا ہے ۔سیلاب اور ہر ایک دکھ کے لمحے میں رائے گنج کے عوام نے مجھے حاضر پایا ہے ۔محمد سلیم کہتے ہیں کہ ایم پی فنڈ کے پروجیکٹ کی نگرانی تین مرحلے پر ہوتی ہیں پروجیکٹ کا نفاذ، نگرانی،ضلع انتظامیہ کے ساتھ کوآرڈی نیشن۔محمد سلیم کہتے ہیں کہ بنگال میں اپوزیشن جماعتوں کے منتخب ممبران پارلیمنٹ کو ایم پی فنڈ کے استعمال میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری نے 61.6فیصد،مرشدآباد سے ممبر پارلیمنٹ 62.16فیصد اور آسنسول سے ممبرپارلیمنٹ و مرکزی وزیر بابل سپریہ نے 72فیصد استعمال کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ہر ایک ممبرپارلیمنٹ کی یہی شکایت ہے کہ ان کے ایم پی فنڈ کے استعمال کی راہ میں روکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ضلع انتظامیہ تعاون نہیں کرتی ہے ۔مجھے بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر میں ضلع انتظامیہ پر دباؤ بناکر ایم پی فنڈ کا 95فیصد خرچ کردیا۔اس لیے ممبرپارلیمنٹ کے اعتبار سے میری کارکردگی سب سے نمایاں ہے ۔
رائے گنج لوک سبھا حلقے میں ہندو اور مسلم آبادی کی شرح میں ایک فیصد کا فرق ہے ۔مسلم آبادی یہاں 51فیصد ہے جب کہ ہندو آبادی 40فیصد ہے ۔بی جے پی کو امید ہے کہ مسلم ووٹ کانگریس، بایاں محاذ اور ترنمول کانگریس کے درمیان تقسیم ہوگا اور اس کا فایدہ اسے ملے گا۔کسی بھی امیدوار کو جیتنے کیلئے 30فیصد ووٹ کا حاصل کرنا کافی ہے ۔2014میں محمد سلیم نے 29فیصد ووٹ حاصل کیا تھا۔کانگریس کی دیپاداس منشی نے 28.5فیصد،بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے امیدوار وں نے بالترتیب 18.32فیصد اور 17.39فیصد ووٹ حاصل کیا تھا۔محمد سلیم واحد مسلم امیدوار ہے ۔ترنمول کانگریس نے اسلام پور اسمبلی حلقے سے ممبراسمبلی کنہا لال اگروال کو امیدوار بنایا ہے ۔کانگریس نے دیپاداس منشی جو یہاں کی 2009سے 2014کے درمیان ممبر پارلیمنٹ تھی۔جب کہ بی جے پی نے دیبو شری چودھری کو امیدوار بنایا ہے ۔دیبو شری چودھری کہتی ہیں کہ یہاں کے عوام ترنمو ل کانگریس حکومت کے ہندؤں کے ساتھ ناانصافی کے خلاف ووٹ دیں گے ، یہاں کے عوام مودی کو دوبارہ وزیرا عظم کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، سی پی ایم اور کانگریس کا کوئی وجود نہیں ہے ۔انتخابی تجزیہ نگار بسواناتھ چکرورتی کہتے ہیں کہ مسلم ووٹ پولرائزہوسکتا ہے ۔چوں کہ شروع سے ہی یہ بات گردش کررہی ہے کہ مسلم ووٹ کی تقسیم سے بی جے پی کامیاب ہوسکتی ہے اس لیے زیادہ امکان ہے کہ مسلم اس امیدوار کے حق میں متحد ہوجائے جو بی جے پی کو شکست دینے کی پوزیشن میں ہو۔ماضی کے اعتبار سے دیباداس منشی کی عوامی پکڑ ہے ،جب کہ ترنمول کانگریس کے امیدوار کنہیالال اگروال کے پاس پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ ہے ۔ستمبر 2018میں دارویٹ ہائی اسکول میں اردو اور سنسکرت کے ٹیچروں کی بحالی کے خلاف احتجاج کے دوران دو سابق طالب علموں کی موت کے معاملے کو اٹھارہی ہے ۔یہاں کے طلباء سائٹس کے ٹیچر کی تقرری چاہتے تھے مگر حکومت نے اردو اور سنسکرت کے ٹیچر کو بھیج دیا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ احتجاج اردو اور سنسکرت دونوں ٹیچروں کے خلاف ہورہے تھے مگر بی جے پی صرف اردو ٹیچر کی تقررری پر فوکس کررہی ہے ۔
بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے رائے گنج میں ریکی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ حکومت پر اسکولوں میں ا ردو کو تھوپ رہی ہے ۔جب کہ یہ نفس واقعہ کے خلاف تھا۔اسی طرح بی جے پی این آرسی اور دراندازی کی سیاست کرکے ہندؤ ووٹوں کو پولرائزکرنے کی کوشش کررہی ہے ۔جب کہ اسلام پور سب ڈویژن میں اردو بولنے والوں کی اچھی خاصی تعداد رہی ہے ۔یہاں کے بیشتر اسکولیں ملٹی میڈیم اسکول رہے ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ اردو میڈیم ختم ہوتا جارہا ہے ۔بیشتر اردو میڈیم اسکول میں اساتذہ کی قلت ہے ۔اسلام پور شہر میں اردو میڈیم اسکول کے ایک ٹیچر نے نام چھپانے کی شرط پر کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے وقت یہ علاقہ اردو بولنے والوں کا تھا اور یہاں کے 50فیصد اسکول اردو میڈیم ہوا کرتے تھے ۔پہلے حکومت نے ملٹی میڈیم اسکول بنایا اور اس کے بعد اردو ٹیچروں کی قلت کی وجہ سے اردو میڈیم اسکول ختم ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ بایاں محاذ نے اگر ناانصافی کی ہے تو ترنمول کانگریس نے بھی اردو کے ساتھ سوتیلا سلوک کیاہے ۔داڑی ویٹ اسکول میں ہنگامہ آرائی کے پیچھے وہ ترنمول کانگریس کے امیدوار کنہیا لال اگروال پر انگلی اٹھاتے ہیں۔خیال رہے کہ رائے گنج بنگال کے ان علاقے میں سے ایک ہے جہاں آر ایس ایس نے کافی عرصے سے محنت کررہی ہے ۔بی جے پی امیدوار نے داڑی ویٹ اسکول سے ہی اپنی مہم کا آغاز کیا ہے ۔یہاں 18اپریل کو پولنگ ہونی ہے ۔رائے گنج لوک سبھا حلقے میں کل سات اسمبلی حلقے ہیں جس میں اسلام پور، گوال پوکھر،چکولیہ،کرن دیگھی،ہیمت آباد،کالیا گنج اور رائے گنج شامل ہیں۔2016کے اسمبلی انتخاب میں چوں کہ کانگریس اور بایاں محاذ نے مل کر انتخاب لڑا تھا۔دونوں نے سات میں سے پانچ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔جب کہ ترنمول کانگریس کو دو سیٹوں پر کامیابی ملی۔بی جے پی اپنا کھاتہ کھولنے میں بھی ناکام رہی۔اسلام پور سے کانگریس کے ٹکٹ پر کنہیالال اگروال کامیاب ہوئے تھے وہ اب ترنمول کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں،اس مرتبہ ترنمول کانگریس کے امیدوار بھی ہیں۔بی جے پی کی امیدوار دیبو شری چودھری گزشتہ مرتبہ بردوان۔درگا پور سے انتخاب لڑا تھا۔مگر ا س مرتبہ پارٹی نے انہیں رائے گنج سے امیدوار بنایا ہے ۔دیبوشری کو امیدوار بنائے جانے کی وجہ سے رائے گنج کے بی جے پی حامیوں میں ناراضگی بھی ہے ۔